Codex Gigas Book In Urdu
اس کتاب کے بارے میں سب سے مشہور کہانی یہ ہے:
"سزا یافتہ راہب کی کہانی" قرون وسطیٰ میں چیک ریپبلک کے شہر پراگ کے قریب ایک بڑے مذہبی مرکز (قصبہ Podlažice) میں ایک راہب رہتا تھا۔ اس راہب نے اپنے راہبانہ قوانین توڑے اور اس کی سزا یہ تھی کہ اسے زندہ دیوار میں چن دیا جائے گا۔
اس سزا سے بچنے کے لیے راہب نے ایک ناممکن وعدہ کیا۔ اس نے کہا کہ وہ ایک رات میں (یعنی سورج غروب ہونے سے لے کر طلوع ہونے تک) پوری بائبل اور تمام انسانی علم کی ایک کتاب لکھ کر تیار کر دے گا۔ راہب کو معلوم تھا کہ یہ انسانی طاقت سے باہر ہے۔
آدھی رات کو، جب راہب تھک کر چور ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ وہ مر جائے گا، تو اس نے شیطان کو پکارا۔ راہب نے شیطان (Lucifer) سے اپنی جان کے بدلے کتاب مکمل کرنے کی درخواست کی۔ کتاب کی مشہور تصویر میں شیطان راہب کی مدد کر رہا ہے۔ راہب نے شیطان کے لیے ایک صفحہ بھی خالی چھوڑ دیا، جہاں اس نے شکرانے کے طور پر "فاتح شیطان" کی تصویر بنائی۔
سائنسی حقیقت: جدید ماہرین نے روشنائی کا تجزیہ کیا تو پتہ چلا کہ پوری کتاب ایک ہی شخص نے لکھی ہے اور اس کے انداز تحریر میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو اتنی بڑی کتاب لکھنے کے لیے اگر دن رات محنت کرے تو کم از کم 20 سے 30 سال لگ جائیں گے، نہ کہ ایک رات۔ codex gigas book in urdu
پھر بھی، شیطان کی تصویر اتنی بھیانک ہے کہ یہ لیجنڈ آج بھی زندہ ہے۔
جیسے ہی آپ اس کتاب کو صفحہ 290 پر کھولتے ہیں، آپ کی روح کانپ جاتی ہے۔ پورے صفحے پر شیطان کی ایک بڑی، بھیانک تصویر بنی ہوئی ہے۔ یہ تصویر قرونِ وسطیٰ کی علامتی آرٹ کی شاہکار ہے۔
اس تصویر میں شیطان کے سینگ ہیں، سبز چہرہ ہے، دو بھالے نما پنجے ہیں اور وہ ایک چمڑے کے تخت پر بیٹھا ہے۔ اس کے بالکل سامنے آسمانوں کا شہر (Heavenly City) بنا ہوا ہے، گویا اچھائی اور برائی کا ابدی مقابلہ۔ اس تصویر کی وجہ سے ہی یہ کتاب "شیطان کی انجیل" کہلائی۔
اس کتاب کے بارے میں سب سے مشہور کہانی 13ویں صدی کی ہے۔ چیک شہر پراگ کے قریب پوڈلازیس (Podlažice) کی خانقاہ میں ایک راہب رہتا تھا۔ راہب نے اپنے مافوق (Abbot) کی نافرمانی کی۔ سزا یہ تھی کہ اسے زندہ دیوار میں چن دیا جائے گا۔ اس کتاب کے بارے میں سب سے مشہور
موت سے بچنے کے لیے، راہب نے ایک عجیب وعدہ کیا: "میں ایک رات میں ایک ایسی کتاب لکھ دوں گا جس میں دنیا کا سارا علم ہو گا، اور یہ خانقاہ کو مشہور کر دے گی۔"
آدھی رات کو جب وہ اکیلے Scriptorium (لکھنے کا کمرہ) میں بیٹھا تھا، اسے احساس ہوا کہ یہ ناممکن ہے۔ اتنی بڑی کتاب ایک رات میں لکھنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ تب اس نے شیطان کو پکارا۔ شیطان ظاہر ہوا۔ راہب نے اپنی روح کے بدلے شیطان سے مدد مانگی۔ شیطان نے پوری کتاب لکھ دی اور بدلے میں راہب کی روح لے لی۔ شناخت کے لیے شیطان نے اپنی تصویر کتاب میں شامل کر دی۔
یہ صرف ایک افسانہ ہے، لیکن یہ اتنا مشہور ہوا کہ لوگ کتاب کو ہاتھ لگانے سے ڈرتے تھے۔
یہ کتاب صدیوں میں کئی مقامات سے گزری: اسے 357 دن کے لیے پراگ واپس لایا
اسے 357 دن کے لیے پراگ واپس لایا گیا تھا (2007 میں)، جسے دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگوں نے طوائفیں لگائیں۔
Codex Gigas کے ساتھ سب سے مشہور داستان یہ ہے:
قرونِ وسطیٰ میں بوہیمیا (موجودہ چیک ریپبلک) کے ایک راہب نے اپنی خانقاہ کے قوانین توڑ دیے۔ سزا کے طور پر اسے زندہ دیوار میں چنے جانے کا حکم سنایا گیا۔ اس سے بچنے کے لیے، راہب نے وعدہ کیا کہ وہ ایک رات میں دنیا کی تمام معلومات پر مشتمل ایک عظیم کتاب لکھ کر خانقاہ کو عطیہ کر دے گا۔
جب آدھی رات کو اسے احساس ہوا کہ یہ کام ناممکن ہے، تو اس نے شیطان سے مدد مانگی۔ فوراً ہی شیطان نمودار ہوا اور راہب سے بدلے میں اس کی روح کا مطالبہ کیا۔ راہب نے معاہدہ کر لیا۔ شیطان نے اسے طاقت بخشی، اور صبح ہوتے ہوتے کتاب مکمل ہو گئی۔ شکرانے کے طور پر، راہب نے شیطان کی تصویر اس میں شامل کر دی۔
لیکن حقیقت کیا ہے؟ ماہرینِ خطاطی کا کہنا ہے کہ یہ کتاب ایک شخص نے تقریباً 25 سے 30 سال میں لکھی ہے۔ ہینڈ رائٹنگ ایک جیسی ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ ایک ہی شخص نے لکھی ہے، لیکن ایک رات میں لکھنا ناممکن ہے۔ غالباً یہ ایک منقطع راہب نے اپنی توبہ کے طور پر لکھی تھی۔